Sunday, March 6, 2011

Urdu Columns/Articles

ویلنٹائن ڈے.... ہم کدھر جا رہے ہیں

ساجد حسین


دنیا بھر میں 14 فروری کو پریمیوں کا دن منایا جاتاہے کچھ عرصہ پہلے تک مسلم ممالک میں ویلنٹائن ڈے کا کہیں بھی تصور نہیں تھا لیکنآج اسلامی دنیا سمیت پاکستان میں آج جس جوش و خروش سے یہ دن منایا جا رہا ہے لگتا ہی نہیں کہ یہ کسی غیر قوم کا تہوار ہے  گو کہ محبت ایک طاقتور انسانی جذبہ ہے اور ایک ایسی قوت ہے جو کسی زندگی کو آباد کر سکتی ہے تو کسی کو برباد بھی / دلوں کو توڑ سکتی ہے توٹوٹے دلوں کے تارپھر سے جوڑ بھی سکتی ہے۔ آج دنیا جب اس جذبے کی اہمیت پر یوم ویلنٹائن منا رہی ہے تو ہمیں انواع و اقسام کے دل  چاکلیٹ اور ساٹن کے دل ہر طرف نظر آ رہے ہیں۔ 
ویلنٹائن ڈے سے متعلق کئی روایات ہیں بہت سے لوگ اس تہوار کو رومیوں کے محبت کے دیوتا cupid سے متعلق قرار دیتے ہیں جو کہ لوگوں کے دلوں میں تیر مار کر انہیںعشق میں مبتلا کر دیتا تھا کیوپڈ محبت کی دیوی وینس (venus ) کا بیٹا تھا۔
ایک اور روایت کے مطابق تیسری عیسوی میں جب روم پر شہنشاہ کلاڈیئس دوم کی حکومت تھی تو ملک کو خونریز جنگوں کا سامنا تھا شہنشاہ کے حکم پرعوام کو زبردستی فوج میںبھرتی کیا جاتا اور شادی بیاہ پر پابندی تھی۔ ایسے میں ایک راہب ویلنٹائن نے بادشاہ کی حکم عدولی کرتے ہوئے چوری چھپے نوجوانوں کی شادیاں کرانی شروع کردیں شہنشاہ کو علم ہونے پر اس نے سینٹ ویلنٹائن کو قید کر لیا جیل میں ویلنٹائن کی ملاقات جیلر کی بیٹی سے ہوئی پھر ان دونوں کی محبت پروان چڑھنے لگی اور دونوں پریمیوں کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہونے لگا اسی دوران ویلنٹائن نے جیل سے فرار کی کوشش کی مگر پکڑا گیا اس جرم کی پاداش میں اسے چودہ فروری کو سزائے موت دیدی گئی اس کے قتل کے بعد لوگوں نے اس کی یاد میں ہرسال 14 فروری کو تہوار منانا شروع کر دیا۔
 ایک دوسری روایت کے مطابق سترھویں عیسوی میں روم کے گرجاگھرمیں ویلنٹائن نام کاپادری تھا جو ایک راہبہ(نن) کی محبت میں گرفتار ہوگیا عیسائیت میں پادری اور راہبہ دونوں کیلئے شادی کرناممنوع ہے پادری ویلنٹائن نے اپنی محبت کوحاصل کرنے کی غرض سے راہبہ کوجھوٹا خواب سنایا جس کے مطابق اس نے موقف اختیار کیا اگرچودہ فروری کوکوئی پادری اورراہبہ ملاپ کریں تو انہیں کوئی گناہ نہیں ہوتا راہبہ نے پادری کی بات پر یقین کرلیا دونوں وہ عمل کرگزرے جس کی عیسائی مذہب میں ممانعت تھی چند دن بعد یہ رازفاش ہوگیا جس پر ان دونوں پریمیوں کو پھانسی دے دی گئی کچھ دنوں بعد چند منچلوں نے ان دونوں کو شہید محبت قراردے کران کی یاد میں ویلنٹائن ڈے منانے کااعلان کردیا ۔
ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے سب سے زیادہ قابل بھروسہ Encyclopedia Britannica کی وہ روایت ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ اس دن کا تعلق سینٹ ویلنٹائن سے نہیں بلکہ قدیم رومیوں کے ایک دیوتا Lupercalia کے مشرکانہ تہوار سے ہے یہ تہوار پندرہ فروری کو Juno Februata کے اعزاز میں منعقد کیا جاتا تھا جس میں لڑکیوں کے نام ایک برتن میں ڈال دیئے جاتے اور مرد بغیر دیکھے جس لڑکی کا نام نکالتے تہوار ختم ہونے تک وہ لڑکی اس مرد کی ساتھی بن جاتی روم میں عیسائیت کو فروغ ملنے کے بعد اس فحش لیکن مقبول عام تہوار کو لڑکیوں کے ناموں کی بجائے سینٹ(راہب) کے نام ڈال دیئے جاتے اب جس سینٹ کا نام نکلتا مرد حضرات کو سارا سال اس کی تقلید کرنا پڑتی لیکن یہ کوشش ناکام ہوگئی اور اس تہوار میں ایک بار پھر لڑکیوں کے ناموں کا قرعہ ڈالا جانے لگا۔
فرانس میں ویلنٹائن کی قرعہ اندازی سے سخت مشکلات پیدا ہونے کے بعد 1776ءمیں اسے مکمل طور پر ممنوع قرار دیدیا گیا بعدازاں اٹلی  ہنگری  آسٹریا اور جرمنی نے بھی اس فحش رواج سے پیچھا چھڑا لیا ۔ انگلستان میں بھی اس تہوار پر Puritans کے دور حکومت تک مکمل پابندی رہی لیکن بعد میں چارلس دوم نے اس کو دوبارہ رواج دیا یہاں سے یہ تہوار امریکا میں داخل ہوا اور آہستہ آہستہ ایک بار پھر دنیا میں پھیل گیا۔
اس دن کو منانے کی ابتداءکسی بھی طرح ہوئی ہو آج یہ تہوار اپنی مشرکانہ اور بے ہودہ روایات کی طرف لوٹتا نظر آ رہا ہے لڑکوں اور لڑکیوں کا آزادانہ میل جول اس تہوار کا لازمی جزو ہے اور نوجوان دلوں میں جذبات کی آگ بھڑکا کر کسی خاص محبوب کی ضرورت کا احساس دلایا جاتا ہے۔ ڈش  کیبل اور انٹرنیٹ نے مسلم معاشرے میں اس تہوار کو پروان چڑھانے میں بڑا کردار ادا کیا۔ یوم ویلنٹائن پر سرخ کپڑے پہننا  کارڈز اور چاکلیٹس کے تحائف بھیجا پاکستان میں بھی عام ہو گیا ہے رہی سہی کسر موبائل فونز نے نکال دی ہے بظاہر معصوم اور بے ضرر نظر آٓے والی ان چیزوں کے ذریعے جنسی آزادی  لڑکے لڑکیوں کے آزادانہ تعلق کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ جذبات کے آزادانہ اور کھلے اظہار کو بھی عام کیا جا رہاہے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں محبت بھرے پیغامات کی تشہیر کے ساتھ ساتھ رومانی ملاقاتوں اور رقص و موسقی کی محفلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے بعض سکول کالج اوریونیورسٹیاں اپنے طالب علموں کیلئے ویلنٹائن ڈے پارٹیز بھی منعقد کراتی ہیں جس کے نتیجے میں طلباءکے اندر شہوانی احساسات اور ان کے کھلم کھلا اظہار کا شوق پیدا ہوتا ہے اور نوجوان نسل اپنی پسندیدہ فلموں کے لو سین کی دن دہاڑے نقل کرتی دکھائی دیتی ہے۔
آج جب دنیا یوم محبت منا رہی ہے کیا ہم نے کبھی اس ہستی سے محبت کے بارے میں سوچا جس نے ہمیں پیدا کیا ہے جس نے ہمیں وہ دل دیا جو محبت محسوس کر سکتا ہے کیا ہمارے اس دل میں کبھی اس کی محبت کا احساس پیدا ہوا کیا ہم نے کبھی اس ذات پاک سے محبت کے اظہار میں کچھ وقت یا مال صرف کیا ہے جس نے ہمیں یہ تمام چیزیں عطا کی ہیں ۔کیا ہم میں اتنا اعتماد ہے کہ ہم علی الاعلان اس ذات پاک سے محبت کا اعلان کر سکیں۔ کیا ہمیں تنہائی یا بھیڑ میں ایک لمحے کیلئے بھی معبود حقیقی کی وہ یاد آئی جس کا وہ حقدار ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ خوبصورت ترین جذبہ جو ہمیشہ قائم رہنا چاہئے اسے ہم انا کی وقتی تسکین میں ضائع کر رہے ہیں۔ کیا ہماری محبت میں اتنی گہرائی ہے کہ ہم اس ذات واحد کو پہچان سکیں جس کو ہم دیکھ نہیں سکتے مگر اس کی محبت کی نشانیاں ہمارے چاروں اطراف بکھری پڑی ہیں یا ہماری محبت اتنی سطحی ہے کہ اس کی ابتداءاور انتہا فقط ’ایک خاص ‘تک محدود ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اللہ کی محبت و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
آج کا دن ہم سے سوال کر رہا ہے کہ کیا اللہ کے رسول سے ہمیں اس درجے کی محبت ہے جس کے بارے میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی ایمان والا نہیں جب تک وہ مجھ سے اپنے باپ اپنی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبت نہ کرے“ ۔
ایک مسلمان کو حقیقی محبت بس ایک دفعہ اور ہمیشہ کیلئے ہوتی ہے اور وہ اپنے رب اور مالک حقیقی سے۔وہ ذات پاک جو ازل سے ابد تک قائم ہے مسلمانوں کیلئے اس رب کی محبت ایک معنی رکھتی ہے اور بندے کو تمام مخلوق سے محبت کرنا سکھاتی ہے نہ کہ صرف ایک خاص سے۔
 ہم سب سے زیادہ محبت کس سے کرتے ہیں اپنی ذات اور خواہشات سے یا اپنے رب سے؟ اگر ہمیں اپنے رب سے محبت ہے تو ہم ایک مشرکانہ تہوار کیسے منا سکتے ہیں جبکہ ہمارا رب تو شرک کو سب سے زیادہ ناپسند فرماتا ہے۔ ایک مسلمان کے اعمال کبھی بھی بے مقصد اور بے معنی نہیں ہوتے ۔ اپنے تہواروں کی مثال لے لیجئے عیدالفطر پر فطرانہ کی صورت میں محتاج اور نادار لوگوں کی مدد کی جاتی ہے عیدالاضحی پر قربانی کر کے گوشت غرباءمیں تقسیم کیا جاتا ہے۔
موجودہ حالات بھیہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم فضولیات کو چھوڑ کر اپنے ضرورت مند مسلمان بھائیوں کی مدد کریں آج ملک میں مہنگائی اور بےروزگاری کا طوفان برپا ہے لوگ بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر بچوں سمیت خودکشیاں کر رہے ہیں ایک ایسا ملک جہاں پر تیس فیصد آبادی خط غربت سے انتہائی نیچے زندگی گزار رہی ہے کیا ہمیںزیب دیتا ہے کہ چند لمحوں کی شہوانی مسرت حاصل کرنے کیلئے ہم کروڑوں روپے کارڈز اور پھولوں کی نذر کر دیں یہی رقم ہم ضرورت مندوں کو دے کر معبود حقیقی کا قرب اور دائمی خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک مسلمان کو کوئی کام اس لئے نہیں کرنا چاہئے کہ سب یہی کر رہے ہیں بلکہ اسے دیکھنا چاہئے کہ اس کا اللہ اور رسول ﷺ اسے کیا کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ مسلمان کو اپنی زندگی دوسروں کے پیچھے غلط راہ پر چل کر ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ آج کا دن ہم سے تقاضا کر رہا ہے کہ آیئے ہم بھی دل اور جان سمیت مسلمان ہو جائیں۔

No comments: