Monday, March 7, 2011

قومی کھیل ہاکی .... تنزلی کا سفر جاری


قومی کھیل ہاکی .... تنزلی کا سفر جاری
سینئر کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ کب بند ہوگا 
کیا قومی ٹیم بیجنگ اولپمکس میں وکٹری سٹینڈ تک پہنچ پائے گی

 ساجد حسین

ہاکی جو کہ پاکستان کا قومی کھیل ہے آج انتہائی زوال کا شکار ہے ایک دہائی قبل تک پاکستان کی ہاکی ٹیم اپنے عروج پر تھی اور دنیائے ہاکی کے تمام بڑے بڑے اعزاز اس کے پاس تھے دیگر اداروں کی طرح ہاکی میں بھی رفتہ رفتہ سیاست آگئی اقرباءپروری اور ذاتی پسند و ناپسند کو ترجیح دی جانے لگی جس سے قومی کھیل پستی کی طرف گامزن ہوا قومی ٹیم کی حالت اس وقت کرکٹ ٹیم سے بھی انتہائی دگرگوں ہے اور اس پر ارباب اختیار نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس کی وجہ سے ہاکی کی طرف سے نوجوان نسل کا رجحان بالکل ختم ہو رہا ہے اور ایسے کھیل کے میدان جہاں پہلے ہاکی کھیلی جاتی تھی اب ان میدانوں میں کرکٹ کھیلی جا رہی ہے خاص کر گزشتہ چارپانچ سالوں کے دوران ہاکی کا گراف انتہائی نیچے آیا ہے جو کہ ایک تشویش ناک امر ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری خالد محمود نے گزشتہ برس اپنے انتخاب کے بعد اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ ہاکی ٹیم کو ایک بار پھر عروج پر لے جائیں گے خالد محمود کا کہنا تھا کہ انڈر 17 اور انڈر18 ٹیم میں ایسے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں جو تین سال میں ایک نئی اور اچھی ٹیم بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے انہوں نے کہا تھا کھلاڑیوں کی فٹنس اور مورال اپ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کیخلاف ایک گول ہو جائے تو لڑکے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ اب میچ نہیں جیت سکیں گے۔ وہ ایک اور بات سے بھی شاکی تھے کہ ہم نے ایشیائی سٹائل چھوڑ دیا ہے ۔کھیل کے دوران شارٹ پاسز ، ڈربلنگ یا ڈاجنگ کہیں بھی نہیں دکھائی دیتی۔ پی ایچ ایف کے صدر ظفر اللہ خان جمالی کا کہنا تھا کہ ہاکی کا زوال ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے اور ہم نے بیجنگ اولمپک 2008ءکو اپنا ہدف بنا رکھا ہے اس سے قبل بھی اس طرح کے دعوے کئے جاتے رہے ہیں مگر صرف دعوﺅں سے بات نہیں بنتی اگر انہوں نے بیجنگ اولمپک کو اپنا ہدف مقرر کر رکھا ہے تو ابھی سے ٹیم کی کارکردگی بہتربنانے کے اقدامات کرنے ہوں گے اولمپک سے قبل آنے والے ایونٹ میں ٹیم کا مورال اپ کرنا ہوگا۔ بیجنگ اولمپک سے پہلے ابھی قومی ٹیم نے چین کی ٹیم سے پانچ میچوں کی سیریز کھیلنی ہے ۔مذکورہ ٹورنامنٹ کیلئے قومی ٹیم کا کیمپ کل یعنی بیس فروری سے لاہور کے نیشنل سٹیڈیم میں شروع ہو گا۔
جس کیلئے فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی نے ممکنہ37کھلاڑیوں کے ناموں کااعلان کردیا ہے،کمیٹی کے چیئرمین اصلاح الدین صدیقی، سیدمدثر اصغر،اولمپئن سمیع اللہ اورمنیجرو کوچ خواجہ ذکاءالدین نے55ویں قومی ہاکی چیمپئن شپ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کاجائزہ لینے کے بعد فیڈریشن کے صدر میر ظفراللہ خان جمالی کی منظوری کے بعد تربیتی کیمپ کیلئے 37 کھلاڑیوں کاانتخاب کیا۔ کیمپ کے بعد حتمی قومی ہاکی ٹیم کااعلان کیاجائے گا جو13سے23مارچ تک چین کے خلاف5ٹیسٹ میچوں پرمشتمل سیریز میں شرکت کرے گی۔ممکنہ کھلاڑیوں کو20فروری تک کیمپ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پاکستا ن ہاکی فیڈریشن کے ترجمان الطاف صابر کے مطابق کیمپ کے دورا ن چیف کوچ خواجہ ذکاءالدین کھلاڑیوں کوٹریننگ دیں گے، اسسٹنٹ کوچزنوید عالم، شہباز جونیئر اور ارشد حسین بھی پلیئرز کی رہنمائی کیلئے موجود ہوں گے۔ کیمپ میں جن کھلاڑیوں کومدعوکیاگیا ان میں سلمان اکبر، ذیشان اشرف، محمدعتیق،سیدعمران وارثی، سمیرسلیم، عبدال حسیم خان،اخترعلی،عمران شاہ،محمدعمران،شاہد سلیم، وقاص ظفر،اقبال ،محمدارشد، کامران، سجادانور، شکیل عباسی، شبیرخان، عباس حیدر، ناصراحمد، احسن اللہ، محمدعرفان،وقاص اکبر،شفقت رسول، محمد زبیر، یاسر اسلام،شاکرمنیر،رانامحمد آصف، محمدوقاص شریف، ریحان بٹ، وسیم احمد،عاطف مشتاق، محمدثقلین، سعید شاہ، محمدامین، محمدادریس، نویداحمد اور محمدریاض شامل ہیں۔ یادرہے کہ قومی ہاکی ٹیم ان دنوں بدترین دور سے گزررہی ہے، انٹرنیشنل ایونٹس میں اس کی کارکردگی خاصی غیرمعیاری ہے، وہ ممالک جنہوں نے پاکستان کو کھیلتے دیکھ کرہاکی شروع کی اب ان کی ٹیمیں بھی گرین شرٹس کوٹف ٹائم دینے لگی ہیں، بعض ماہرین نے اس کی وجہ ایشین اسٹائل کوچھوڑ کریورپیئن اسٹائل اپنانے کو قرار دیا ہے تاہم بعض حلقے اس سے متفق نہیں۔ رواں سال بیجنگ اولمپکس میں بھی قومی ٹیم کی وکٹری اسٹینڈتک رسائی کاکسی کویقین نہیںہے،سہیل عباس ودیگر سینئرکھلاڑیوں کی متنازع اندازمیں قومی ٹیم سے دوری بھی زوال کی ایک وجہ ہے نوجوان کھلاڑی تاحال توقعات کے مطابق اچھی کارکردگی کامظاہرہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں کئی عالمی اعزازات اپنے پاس رکھنے والی پاکستانی ٹیم کااب کسی ٹائٹل پرقبضہ نہیں ہے۔
بیجنگ اولمپکس کی تیاریوں کے لئے کیمپ میں ڈراپ ہونے والے کھلاڑی خاصے مایوس ہیںاورانہوںنے فیڈریشن عہدیداروں اور سلیکٹرز کوشدید تنقید کانشانہ بنایا ہے۔ ہاف بیک دلاورحسین کا کہنا ہے کہ میگاایونٹ کی تیاریوں کیلئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کاکوئی ویژن نہیں ہے۔ ایونٹ سرپر ہے لیکن ابھی تک کسی کھلاڑی کوپتہ ہی نہیں کہ اس کے ساتھ کیاہونا ہے وہ چین اولمپکس ٹیم میں شامل ہوگا بھی یا نہیں ،ملائیشیا میں ہونے والی چیمپئزٹرافی میں مجھے نہ صرف سب سے فٹ کھلاڑی قراردیاگیا بلکہ میں واحد پاکستانی کھلاڑی تھا جسے ایف آئی ایچ نے ورلڈبیسٹ الیون ٹیم میں شامل کیا۔ میری خدمات کایہ صلہ دیاجارہا ہے کہ مجھے تربیتی کیمپ سے ہی ڈراپ کردیاگیا ہے کوئی یہ بتانا بھی گوارانہیں کرتا کہ مجھے کیوں اورکس وجہ سے کیمپ میں نہیں بلایاگیا ان کاکہنا ہے کہ قومی کھلاڑی کو عزت درکارہوتی ہے جوہمیں نہیں مل سکی،سلیکٹرز کاجب دل کرتا ہے بغیرکسی وجہ کے کھلاڑیوں کونکال باہرکرتے ہیں اوراپنی مرضی سے انہیں واپس بلالیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیمپئنزٹرافی میں جن18کھلاڑیوں کو طلب کیاگیاتھا بہترہوتا کہ ان کوتوہرحال تربیتی کیمپ میں بلایاجاتا اب اگرایسا نہیں کیاگیا تو اس کاتویہی مطلب لیاجاسکتا ہے کہ سلیکٹرز کاپہلے والا فیصلہ غلط تھا۔ ان کاکہنا ہے کہ فیڈریشن کے غلط پرغلط فیصلوں کی وجہ سے قومی کھیل تباہی کے دہانے پر آکھڑا ہوا ہے، اب حالت یہ ہے کہ اسے چین اورجاپان جیسی ٹیم سے بھی شکست کاسامناکرناپڑتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ بیجنگ اولمپکس میں دنیا کی بہترین ٹیمیں شریک ہیں اور ان ٹیموں نے میگاایونٹ کیلئے بہت پہلے سے اپنی تیاریاں مکمل کررکھی ہیں ایسے میں گرین شرٹس کامیڈلز کی دوڑ میں شامل ہونادیوانے کاخواب ہی دکھائی دیتا ہے۔ فارورڈمحمدشبیر نے کہاکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سینئرز کھلاڑیوں کوکبھی عزت نہیں دی اس لئے اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں اس نعمت سے محروم رکھا۔ انہوں نے کہاکہ پہلی بار ہی نہیں ہوا بلکہ مجھ سے ماضی میں بھی متعدد بارایسا کیاجاچکا ہے، میں نے حالیہ قومی چیمپئن شپ میں واپڈا کی طرف سے نمائندگی کی جہاں میرے کھیل کوسراہاگیا اپنی اچھی کارکردگی کے بعد میں پرامید تھا کہ نہ صرف کیمپ بلکہ اولمپکس کی حتمی ٹیم میں جگہ بنانے میں ضرورکامیاب ہوجاﺅنگا۔ میں نے ہمیشہ ذاتی فائدوں پر ملکی مفاد کوترجیح دی میری خدمات کایہ صلہ دیاگیا کہ مجھے ٹریننگ کیمپ میں ہی بلانا گوارانہ کیاگیا۔247انٹرنیشنل میچوں میں ملکی نمائندگی کرنے والے سینئر فارورڈمحمدشبیر نے سلیکٹرز کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہیں آنکھیں کھول کرمیرٹ پرکھلاڑیوں کاچناﺅ کرناچاہیے تھا ،انہوں نے کہا کہ ملکی ہاکی تو پہلے ہی زوال کاشکار ہے اگراسی طرح ذاتی پسند وناپسند پرکھلاڑی منتخب ہوتے رہے تو قومی کھیل کامزید بیڑہ غرق ہوگا۔ فاروڈ طارق عزیز کاکہنا ہے کہ آخری بار میں نے بھارت میں ہونے والے ایشیا کپ میں ملک کی نمائندگی کی۔ اس ایونٹ کے بعد مجھے ٹیم سے نظراندازکیاجاتارہا۔170انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے طارق عزیز نے کہاکہ ملک میں ہاکی کھیلنے والے کھلاڑی تو پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں اگرانہیں نظراندازکیاجاتارہا تو وہ وقت دور نہیں جب ہاکی کاکھیل ماضی کاحصہ بن کررہ جائے گا۔
 اگر بیجنگ اولمپکس میں ٹیم کو وکٹری سٹینڈ تک لے کر جانا ہے تو ابھی سے لڑکوں کی فزیکل ٹریننگ کے ساتھ ساتھ پنالٹی کارنر، پنالٹی سٹروکس اور گول کیپنگ کے شعبے میں مہارت کو بڑھانے کیلئے زیادہ سے زیادہ محنت کرانی ہوگی ۔پی ایچ ایف کے صدر ظفر اللہ جمالی اور سیکرٹری جنرل خالد محمود ہاکی کی حالت زار کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی کھیل کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کریں اور ٹیم کا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کیلئے فعال کردار ادا کریں۔ 
ملک میں ہاکی کے کھیل کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے لاہور کی طرح دیگر تمام بڑے شہروں میں بھی اکیڈمیز قائم کی جائیں اور بتدریج ان کا دائرہ کار ضلع کی سطح پر بڑھایا جائے ان اکیڈمیز میں سینئر کھلاڑیوں کو کوچ مقرر کیا جائے اورکوچز کی تنخواہ کو ماہانہ کارکردگی سے مشروط کیا جائے۔ ہاکی کے فروغ کیلئے کلب اور سکول لیول پر باصلاحیت کھلاڑیوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے اس کے ساتھ ساتھ ہاکی کے سامان کو سستا کیا جائے کیونکہ ایک نارمل ہاکی سٹک اس وقت نو ہزار میں مل رہی ہے جبکہ کھیل کے دوران استعمال ہونے والی کٹ کم از کم دو ہزار روپے تک ہے یہ عوامل بھی باصلاحیت غریب کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہے ہیں۔ سرکاری محکموں میں ہاکی کی ٹیموں کے قیام کو لازمی قرار دیا جائے۔ ہاکی سے وابسطہ کھلاڑیوں کو ملازمتیں دی جائیں اور ان کے معاشی مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے۔ کرکٹ کی طرح ہاکی کے کھلاڑیوں کا یومیہ معاوضہ بھی بڑھایا جائے۔ قومی ٹیم کے غیر ملکی کوچ اور آفیشلز کی بجائے مقامی کوچ اور آفیشلز رکھے جائیں۔ دنیا بھر کی ہاکی ٹیموں کے ساتھ ایک ماسٹر مائینڈ سینئر کوچ کے ساتھ جونیئرز کوچ لگائے جاتے ہیں مگر قومی ٹیم کے ساتھ کوئی ایف آئی ایچ ماسٹر کوچ نہیں اس کا انتظام ہونا چاہئے۔ڈویژن اور ڈسٹرکٹ لیول کے ٹورنامنٹ بھی آسٹروٹرف پر کرانے کے انتظامات کئے جائیں اور غیر وں کی نقالی کو چھوڑ کر ایشیائی سٹائل کو اپنانا ہوگا۔حکومت کو چاہئے کہ دیگر کھیلوں کی طرح ہاکی کیلئے بھی وافر مقدار میں فنڈز مہیا کرے۔ ٹیم میں کھلاڑیوں کی سلیکشن کیلئے ذاتی پسند و ناپسند اور اقرباءپروری کی بجائے صرف اور صرف میرٹ کو مدنظر رکھا جائے۔ کھلاڑیوں کو بھی چاہئے کہ وہ ذاتی مفاد کی بجائے صرف اور صرف ملک اور قوم کیلئے کھیلیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قومی ٹیم کو کامیابیاں عنایت کرے اور ایک بار پھر ہاکی کے میدانوں میں پاکستانی ٹیم کا ڈنکا بجنے لگے۔

تاریخ اشاعت08-02-18

No comments: