Tuesday, March 8, 2011

مزدور بچے .... معاشرے کیلئے المیہ


مزدور بچے .... معاشرے کیلئے المیہ

ساجد حسین

 بچے جوکسی ملک کامستقبل،سرمایہ اوراثاثہ ہوتے ہیں ،جب حالات سے مجبور ہوکرہنسنے کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تویقیناً اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتاہے۔ یہ المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زخم کی صورت اختیار کرتاہے اور پھرناسور بن کرسماج کاچہرہ داغ دار اوربدصورت کر دیتاہے۔ پاکستان میںبھی معاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے جگہ جگہ اس المیے کوجنم دے رکھا ہے جو بڑھتے بڑھتے ناسور بنتاچلاجارہاہے۔ ساری دنیا ہی اس لعنت کا سامناکررہی ہے اوراس کے خاتمے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن پاکستان میںچائلڈ لیبرایک سماجی ضرورت بن چکی ہے۔ امیر کے امیرتر اور غریب کے غریب تر ہونے پرقابو نہ پائے جانے کی وجہ سے اب لوگ اس کے سوا کوئی راہ نہیں پاتے کہ وہ بچوںکوابتدا سے ہی کام پرلگادیں تاکہ ان کے گھر کاچولہا جلتا رہے، ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں ۔ سکول جانے کی عمر کے بچے دکانوں ، ہوٹلوں ، بس اڈوں، ورکشاپوں اوردیگر متعدد جگہوں پر ملازمت کرنے کے علاوہ مزدوری کرنے پر بھی مجبور ہیں۔ قوم کے مستقبل کا ایک بڑا حصہ اپنے بچپن سے محروم ہو رہا ہے۔ مملکت خداد اد کے قیام کو ساٹھ سال گزر چکے مگر آج تک کسی بھی حکومت نے ٹھوس بنیادوں پر کوئی حکمت عملی مرتب نہیں جس سے چائلڈ لیبر کو روکا جا سکے۔اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کو منشور کاحصہ بنایا۔ معاشرے کے کسی اورطبقے کی طرف سے بھی اس جانب کوئی پیش رفت سامنے نہیںآئی۔ ایسالگتاہے کہ ہم نے بحیثیت مجموعی چائلڈ لیبر کو اپنے لیے ناگزیر مجبوری تسلیم کر لیا ہے۔ بالخصوص ارباب اختیار کواس ضمن میں کوئی پریشانی لاحق نہیں۔
 پاکستان میں بچوں کی مزدوری کا قانون بنے چودہ سال ہوگئے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا اور خود اس قانون میں بھی نئے عالمی کنوینشنز کے مطابق بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مزدور بچوں پر آخری سروے 1996 میں ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں تینتیس لاکھ مزدور بچے ہیں جبکہ یہ صرف باقاعدہ کام کاج کی جگہوں پر کام کرنے والوں کی تعداد ہے۔ مزدور بچوں کا 80فیصد تو غیررسمی شعبہ میں ہے جیسے گھروں میں اور کھیتوں میں کام کرنے والے بچے جن کا کوئی سروے دستیاب نہیں۔
سماجی بہبود کے اعداد و شمار کے مطابق باقاعدہ شعبوں میں کام کرنے والے مزدور بچوں کی تعداد چالیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں سے بیس لاکھ مزدور بچے پنجاب میں ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی مزدوری سے متعلق جو قوانین ہیں ان میں بچے کی تعریف میں ایسے نوعمر لوگ ہیں جن کی عمر ابھی پوری چودہ سال نہیں ہوئی جبکہ عالمی کنونشنز میں یہ عمر پندرہ سال ہے۔ ملک میں پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے دو کروڑ بیس لاکھ بچےسکولوں سے باہر ہیں اور یہ سب بچے کسی وقت بھی نو عمر مزدور بن سکتے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں گاڑیوں کی ورکشاپوں ¾ فرنیچر کارخانوں اور ہوٹلوں میں مزدور بچوں کی ایک کثیر تعداد کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے بھٹہ خشت پر بھی بچوں سے نہ صرف مزدوری بلکہ جبری مشقت لی جا رہی ہے۔
سیالکوٹ میں جراحی کے آلات بنانے کے کارخانوںمیں ہزاروں بچے مزدوری کرتے ہیں اور ملک ا ±ن کی محنت سے اربوں روپے کا زرمبادلہ کماتا ہے یہ بچے ریتی پر دھات کے گھسنے سے نکلنے والی دھاتی دھول کو بھی سانس کے ساتھ اندر لے کر جاتے ہیں جو ان کے کام کا بہت خطرناک پہلو ہے اسی طرح ڈینٹنگ پینٹنگ اور فرنیچر کی پالش کرنے والے بچوں کے پھیپھڑے بھی رنگ اور پالش میں موجود مختلف کیمیکلز سے متاثر ہوتے ہیں اور ٹی بی کا باعث بنتے ہیں۔کم عمر بچوں کا اپنے والدین سے دور مستریوں کی نگرانی میں کام کرنا بھی بذات خود کئی مشکلات کا باعث بنتا ہے کیونکہ ان ورکشاپوں کے مالکان کا ان بچوں سے کوئی براہ راست رشتہ نہیں ہوتا۔ 
پنجاب کے محکمہ محنت کے ایک اعلی افسر کے مطابق آلات جراحی بنانے کے کام میں بچوں کی مزدوری ان سات شعبوں میں شامل ہیں جنہیں حکومت نے بچوں کے کام کےلئے خطرناک قرار دیا ہوا ہے۔ دوسرے کاموں میں کان کنی، کوڑا اٹھانے کا کام، چوڑی سازی ، ماہی گیری، قالین بافی اور چمڑا بنانے کی صنعت شامل ہے۔ بچوں کےلئے سب سے زیادہ خطرناک کام تو چمڑے کی صنعت کا ہے جہاں بڑی تعداد میں کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں۔ قالین بافی میں بچے دس سے بارہ گھنٹے پنجوں کے بل بیٹھ کر کام کرتے ہیں جس سے ان کی ہڈیاں مڑ جاتی ہیں ۔
ملک بھر میںبچے کوڑا اٹھانے کا کام بھی کرتے ہیں جس میں وہ ہسپتالوں کا کوڑا بھی اٹھاتے ہیں جس میں خطرناک بیماریوں میں استعمال ہونے والی پٹیاں، ٹیکے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ بچوں کی مزدوری کے پیچھے ایک بڑی اہم وجہ غربت ہے اور بہت سے والدین اگر پیسوں کے لیے نہیں تو صرف اس لئے بچوں کو کام پر بھیجنا شروع کردیتے ہیں کہ وہ کوئی ہنر توسیکھے گا کیونکہ حکومتی نظام تعلیم میں مستری، بڑھئی یا ٹیکنیشن اور اسی طرح کے دوسرے ہنر نہیں سکھائے جاتے اورنہ ہی ایسے ہنر سکھانے والے ادارے بھی موجود ہیں۔ تاہم غربت کے ساتھ کئی اور عوامل بھی اہم ہیں۔ مثلا قالین بافی کی صنعت میں بچوں کی بہبود کے لیے آئی ایل او کے منصوبہ پر کام کرنے والے اہلکار کے مطابق قالین بافی میں صرف 22 فیصد بچے خاندان کی غربت کی وجہ سے تھے جبکہ علم کی طرف رغبت دلانے پر45 فیصد بچوں نے قالین بافی کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر سکولوں کا رخ کر لیا۔ تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات بچوں کی مزدوری کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیںاور بنیادی تعلیم سے بھی مزدور بچوں کے حالات میں بہتری آسکتی ہے ۔ 
متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے2005ءمیں اونٹ ریس میں بچوں کے استعمال پر پابندی لگائے جانے کے بعد وہاں سے تقریباً 700بچے واپس پاکستان بھیجے گئے گزشتہ اڑھائی سال کے دوران بچوں کی سمگلنگ میں ملوث چھ سوملزمان کیخلاف مقدمات درج ہوئے جن میں سے صرف چونسٹھ افراد کو سزائیں سنائی گئیں ۔2002ءمیں ایک آرڈیننس بھی جاری کیا گیاتھا جس کے تحت اس کاروبار میں ملوث افراد کو چودہ سال تک سزا دی جاسکتی ہے۔ پاکستان سے بیرونی ممالک کو بچوں کی سمگلنگ1979 میں شروع ہوئی اورہنوز یہ دھندہ بڑے پیمانے پر جاری ہے جس کی روک تھام کیلئے حکومت کو مزید سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔
 انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں بچوں سے مزدوری لینے کے کام میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور امید ہے کہ یہ غیر قانونی کام2015تک دنیا کے تمام ممالک میں ختم ہو جائے گا۔آئی ایل او کے مطابق پاکستان میں مزدور بچوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ تاہم تنظیم کے مطابق ابھی پاکستان میں ہزاروں بچے چوڑیاں بنانے، سرجیکل آلات کی صنعت، کوئلے کی کانوں، گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے کاروباراور چمڑے کے کارخانوں میں کام کر رہے ہیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ایک لاکھ دس ہزار سے زائد بچے صرف کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور ہسپتالوں کا فضلہ جمع کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اسی طرح ملک بھر میں ڈینٹنگ پینٹنگ کی ورکشاپوں ¾ فرنیچر بنانے کے کارخانوں اور ہوٹلوں پر لاکھوں کے حساب سے بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔
ملک میں بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات اور دن بدن مہنگائی میں اضافے کے پیش نظر خدشہ ہے کہ مملکت خداداد میں بجائے چائلڈ لیبر کم ہونے کے مزید بڑھے گی لہٰذاچائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے صرف حکومتی سطح پر ہی اقدامات کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے خاتمہ کیلئے معاشرہ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناہوگااور غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر مزدوری کرنے والے بچوں کو مفت تعلیم ¾ علاج معالجہ اور انہیں کفالت فراہم کرنے کے ذرائع مہیا کرنا ہوں گے اس کے علاوہ کروڑوں کے فنڈ خرچ کرنے والی این جی اوز کو بھی چائلڈ لیبر اور اس کے اسباب کے خاتمہ کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔
Email- tanoli_sh@yahoo.com

No comments: