Tuesday, November 29, 2011

دو سو سال پرانے اخبارات انٹرنیٹ پر

برطانوی لائبریری نے اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے پرانے اخبارات کے تقریبا
چالیس لاکھ صفحات کی سکیننگ کر کے انہیں آن لائن دستیاب کرایا ہے۔
آن لائن دستیابی کے بعد عوام برطانیہ اور آئرلینڈ کے تقریبا دو سو پرانے اخبارت کو اب ویب سائٹ پر پڑھ اور دیکھ سکتے ہیں۔
آن لائن دستیاب کرائےگئے ان اخبارات میں وکٹوریہ اور البرٹ کی شادیوں کے علاوہ ریلویز کی ترقی جیسے تاریخی موضوعات بھی شامل ہیں۔ اس آرکائیو مواد کو مفت سرچ کیا جا سکتا ہے لیکن صفحات تک رسائی کے لیے کچھ پیسے بھی دینے ہوں گے۔
برطانوی لائبریری میں شعبۂ اخبارات کے سربراہ ایڈ کنگ نے کہا کہ لائبریری نے اِسے اس انداز میں پیش کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی پیش نہیں کیا گيا۔ آن لائن پیش کی جانے والی سٹوریز میں لائٹ بریگیڈ کے مقدمہ سے متعلق رپورٹنگ بھی شامل ہے۔
مسٹر کنگ کا کہنا ہے کہ ’لائبریری کے اندر ہی سائٹ پر ایک ایک صفحے کو الٹ پلٹ کر دیکھنے کی بجائے اب برطانیہ اور دنیا بھر کے افراد ان صفحات میں پائے جانے والے معلوماتی خزانے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔‘
لاکھوں آرٹیکلز کو سرچ کرنے کی سہولت استعمال کرنے والے افراد کے لیے یہ لائبریری بہت ہی با معنی ہے کیونکہ اب جو کام سیکنڈز یا ماؤس کے ایک کلک پر ہو جائے گا جبکہ اس سے پہلے یہ کام پہلے ہفتوں اور مہینوں میں ہوتا تھا۔‘
اس پروجیکٹ میں ابیردین جنرل، بیلفاسٹ نیوز لیٹر، ویسٹرن میل اور مانچیسٹر ایوننگ نیوز جیسے اخبارات کے صفحات شامل ہیں۔
برٹش لائبریری میں اخبارات کی سکیننگ کے لیے ایک خصوصی ٹیم نے ایک برس کے کام کے بعد یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہیں امید ہے اگلے دس برس میں تقریبا چار کروڑ صفحات کی سکینگ کی جا سکے گي۔
ثقافتی امور کے وزیر ایڈی ویزی نے کہا کہ یہ آرکائیو بہت اہم اور کارآمد ہے کیونکہ اس سے سرچ کرنے والوں کے لیے کافی آسانیاں پیدا ہوں گی۔

No comments: