Saturday, March 16, 2013

بے گھر بچے اب بین الاقوامی کھلاڑی

پاکستان کے شہر کراچی کے شمالی علاقے میں واقع ایک پتھریلے میدان میں کچھ بچے فٹبال کے عالمی کپ کی تیاری میں مصروف ہیں، لیکن یہ رونالڈو، رونی اور میسی کا عالمی کپ نہیں بلکہ یہ عالمی کپ دنیا بھر کے وہ بچے سجائیں گے جن کی زندگی سڑکوں پر گزری ہے۔
کمزور جسامت اور عام لباس میں ملبوس ان بچوں میں سے چند کی منزل برازیل ہے، جہاں آئندہ سال سٹریٹ چلڈرن فٹبال ورلڈ کپ منعقد ہو رہا ہے۔ پاکستان کو پہلی بار اس عالمی مقابلے میں نمائندگی دی گئی ہے۔
سلمان ناصر چھ سال سڑک پر رہے لیکن بعد میں انہوں نے والدین سے صلح کر لی، ان دنوں وہ بحالی سینٹر میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عام بچے اگر اچھے ہو سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں۔
’ہم بھی اچھے بن سکتے ہیں۔ان کی طرح ہم بھی اپنی زندگی گزار سکتے ہیں، وہ ہی زندگی ہم بھی جی سکتے ہیں۔ جوش اور بھروسہ ہونا چاہیے‘۔
ناہموار میدان میں پریکٹس کے دوران ان بچوں کے پیر پھسل جاتے ہیں، یہ بچے فٹبال کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن انہیں باقاعدہ کھلاڑی بننے کے لیے کئی پاپڑ بیلنا ہوں گے۔
سٹریٹ چلڈرن کی بحالی اور فلاح کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم آزاد فاؤنڈیشن نے پاکستان سے سٹریٹ چلڈرن کی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے کوشش کی تھی۔
تنظیم کے سربراہ افتان مقبول کا کہنا ہے کہ جو بچے کل سڑک پر تھے اور نشہ کرتے تھے یا کسی اور سرگرمی میں ملوث تھے آج وہ ان بچوں کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں جو سکول جاتے ہیں یا فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔
آزاد فاؤنڈیشن کی کوشش ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں سے سٹریٹ چلڈرن کی نمائندگی ہو، اسی لیے کراچی کے علاوہ کوئٹہ، پشاور اور لاہور سے بھی سڑک پر رہنے والے بچوں کا انتخاب کیا جائے گا۔
کراچی کی وسطی علاقے میں موجود جہانگیر پارک ایک مختلف میدان ہے، یہاں موجود بچے اپنی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ یہ پارک ان بچوں کا آشیانہ ہے جنہوں نے اپنوں سے رشتے توڑ کر تنہائی اختیار کی ہے۔
عام بچے اگر اچھے ہو سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں: سلمان
والد کی دوسری شادی پر اسماعیل نے گھر چھوڑ دیا تھا، اس نے زندگی کا سبق سڑک سے سیکھا ہے، وہ صمد بونڈ سونگھنے کا نشہ کرتے رہے ہیں۔
’صمد بونڈ کا شوق دوستوں کو دیکھ کر ہوا تھا، ایک مرتبہ پیا مزہ آیا، دوسری بار پیا مزہ آیا، اس طرح روز پیتا رہا۔ یہ پتہ نہیں تھا کہ اس سے جگر خراب ہوگا، جب یہ محسوس ہوا تو نشہ چھوڑ دیا‘۔
اسماعیل روزانہ دو سے ڈھائی سو روپے کماتے ہیں اس میں سے اسی روپے وہ نشے پر خرچ کر دیتے تھے، جبکہ تینوں وقت وہ ہوٹلوں پر مفت میں کھانا کھاتے ہیں۔ کراچی میں ایسے کئی ہوٹل ہیں جو مخیر حضرات کی ادائیگی پر غریب لوگوں کو کھانا فراہم کرتے ہیں۔
سڑکیں ویسے تو لوگوں کو منزل تک پہنچاتی ہیں، لیکن یہ سڑکیں ہزاروں بچوں کا گھر، سرپرست اور آمدنی کا ذریعہ بھی ہیں، جہاں پھینکی گئی ہر چیز وہ جمع کرتے ہیں۔
استعمال شدہ ہر چیز ری سائیکلنگ کے بعد ایک نئے روپ اور انداز سے دوبارہ مارکیٹ میں آ جاتی ہے، سوائے ان بچوں کے حالات کے، جو وقت کی بھٹی میں پکتے رہتے ہیں۔
انیشیئٹر ڈولپمنٹ فاؤنڈیشن کے صدر رانا آصف حبیب سڑک کے بچوں کی تعلیم پر کام کرتے ہیں، سٹریٹ چلڈرن فٹبال ورلڈ کپ کو وہ کوئی مثبت پیش رفت نہیں سمجھتے۔
بقول ان کے فٹبال میچ میں لے جانا یا دوسرے ایونٹس میں لے جانا اس سے دس بارہ بچے جائیں گے، لیکن اس پر جتنی لاگت آئیگی اتنی لاگت سے ان جیسے سینکڑوں بچوں کی زندگیوں کو بدل سکتے ہیں۔
انیشیئٹر ڈولپمنٹ فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر موجود بچوں میں سے پینتالیس فیصد بنگالی اور برمی جبکہ بیس فیصد افغان بچے ہیں۔
رانا آصف کا موقف اپنی جگہ لیکن سڑک سے اٹھنے والے بچے ملک کے لاکھوں بچوں کی زندگیوں میں تو روشنی نہیں بھر سکتے لیکن ان بچوں کے لیے امید کی ایک کرن ضرور ثابت ہو سکتے ہیں۔
ریاض سہیل

No comments: