Saturday, March 16, 2013

’سی آئی اے سعودی عرب سے ڈرون حملے کر رہی ہے‘

امریکی میڈیا نے خبر دی ہے کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی یعنی سی آئی اے ڈرون حملوں کے لیے گذشتہ دو سال سے سعودی عرب کے ایک خفیہ فضائی اڈے کو استعمال کر رہی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ خفیہ فضائی اڈہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے کارندوں کی تلاش کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
ستمبر 2011 میں اسی فضائی اڈے سے کیے گئے ڈرون حملے میں انور العولقی کو ہلاک کیا گیا تھا جو مبینہ طور پر القاعدہ کے آپریشنز چیف تھے۔اس کے بعد سے ہی امریکی میڈیا کو اس بات کا علم تھا تاہم اس سلسلے میں خبریں نہیں دی گئیں۔
سینیئر سرکاری افسران کا کہنا تھا کہ اس خفیہ اڈے کی خبر منظرِ عام پر آنے سے القاعدہ کے خلاف کارروائیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور دہشت گردی کی لڑائی میں سعودی عرب کے ساتھ امریکی اشتراک کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
امریکہ نے 2003 میں سعودی عرب سے اپنے تمام فوجی واپس بلا لیے تھے جو 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران تعینات کیے گئے تھے۔تاہم فوجی ٹریننگ کے اہلکار باقی تھے۔
روزنامہ نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی حکومت نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم 2009 میں یمن میں کروز میزائل کے حملے کے بعد اس اڈے کی تعمیر کا حکم دیدیا گیا تھا۔
امریکی افسران نے روزنامے کو بتایا کہ پہلی مرتبہ سی آئی اے نے اس اڈے کا استعمال العولقی کو ہلاک کرنے کے لیے کیا تھا اور اس کے بعد سے سی آئی اے کو یمن میں اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا مشن دیا گیا تھا۔
یمن میں امریکی حملوں میں تین اور امریکیوں کو ہلاک کیا گیا جن میں العولقی کا 16 سالہ بیٹا بھی شامل ہے۔
واشنگن پوسٹ کے مطابق دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق صدر براک اوباما کے مشیر جان برنن نے ریاض میں ڈرون کے اس اڈے کو قائم کرنے میں حکومت کے ساتھ بات چیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات موجود ہیں اور وہاں امریکی فوجوں کی تعیناتی کچھ مسلمانوں کے نزدیک تاریخی بددیانتی تھی، جن میں اسامہ بن لادن بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں

No comments: