Thursday, March 14, 2013

کیڑوں کے نام پاپ سٹار کے ناموں پر

ٹیکسانومی یا علمِ درجہ بندی سائنس کی بنیاد ہے، جس کی مدد سے ہم پیچیدہ دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں اب تک دس لاکھ کے لگ بھگ کیڑوں کی اصناف کے نام رکھے جا چکے ہیں اور ان کی خصوصیات بیان کی جا چکی ہیں۔
لیکن ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں کیڑے مکوڑوں کی 80 لاکھ سے ایک کروڑ تک قسمیں موجود ہیں، جس کا مطلب ہے کہ آئے روز نئے اقسام دریافت ہوتی رہتی ہیں۔
وہ سائنس دان جو کیڑے مکوڑوں کا مطالعہ کرتے ہیں انھیں ماہرینِ حشریات کہا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ لاکھوں نئے مکوڑوں کے نام رکھنا آسان کام نہیں ہے۔ اس لیے یہ ماہرین اب بڑی کاوش کے ساتھ تخلیقی نام رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جن میں مشہور شخصیات، پاپ سٹارز اور مزاحیہ نام وغیرہ شامل ہیں۔
قدیم انسانوں کو اپنے اردگرد کی چیزوں کا نام رکھنے کی ضرورت پیش آتی تھی، تاکہ وہ دوسروں کو بتا سکیں کہ کون سی چیز خطرناک یا فائدہ مند ہے۔ یہ اسم بندی انسانی ذہن کا بنیادی عمل ہے اور اس سے بنی نوعِ انسانی کی بقا میں مدد ملی ہے۔18ویں صدی میں سویڈن کے ماہرِ نباتیات کارل لنیئس نے دہرے نام رکھنے کا نظام ایجاد کیا جو آج بھی استعمال ہو رہا ہے۔ لِنیئس کے درجہ وارانہ نظام کا مقصد یہ تھا کہ اصناف کو چھ مراحل میں شناخت کیا جا سکے۔ یعنی سلطنت (کنگ ڈم) سے لے کر صنف (سپیشیز) کی سطح تک۔
اگرچہ یہ بات خاصی خودپسندانہ لگتی ہے کہ کوئی ماہرِ حشریات کسی کیڑے کا نام اپنے نام پر رکھے، لیکن اگر کوئی اور آپ کے نام پر کسی صنف کا نام رکھے تو یہ اعزاز کی بات سمجھی جاتی ہے۔ یہ نام اس شخص کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔
مشہور اداکارہ کے نام پر ایک کیڑے کا نام رکھا گیا، ’کارمن الیکٹرا شی کِس می‘
بعض نام مشہور و مقبول شخصیات کے نام پر رکھے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2012 میں آسٹریلیا کی ایک نادر گھوڑا مکھی کا نام معروف گلوکارہ بیونسے کے نام پر Scaptia beyonceae رکھا گیا۔
عام طور پر اس طرح کے شوخ نام چھوٹے اور معمولی کیڑوں کے رکھے جاتے ہیں۔ امریکی کونٹن ویلر کو امریکی صدر نے اس وقت فون کیا جب انھوں نے 2005 میں تین کیڑوں کے نام Agathidium bushiAgathidium cheneyi اور Agathidium rumsfeldi رکھے۔
کونٹن کے بہت سے ساتھی یہ سمجھے کہ شاید وہ بش انتظامیہ کی ٹانگ کھینچ رہے ہیں لیکن کونٹن صدر بش کی رپبلکن جماعت سے وابستہ تھے، اور انھوں نے کہا کہ انھوں نے یہ نام امریکی صدر، نائب صدر اور وزیرِ دفاع کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے رکھے ہیں۔
تاہم بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاست دانوں کے نام پر کسی جاندار کا نام رکھنا دانش مندانہ عمل نہیں ہے کیوں کہ سیاست دانوں کا طرزِ عمل بدلتا رہتا ہے، جب کہ نام ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
اس کے ایک مثال ایک نارنجی نابینا بھنورے کی ہے جسے 1936 میںAnophthalmus hitleri سے موسوم کیا گیا تھا۔
بعض ماہرینِ حشریات شوخ و شنگ اور مزاحیہ نام رکھنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ ہوائی کے بشپ میوزیم کے سینیئر ماہرِ حشریات نیل ایوینوئس نے ایک فاسل مکھی کا نام اداکارہ کارمن الیکٹرا کے نام پر Carmenelectra shechisme رکھا۔ اسے یوں پڑھا جائے گا: کارمن الیکٹرا شی کِس می۔
"بچے مشکل سائنسی نام پسند کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہر بچے کو ڈائنوساروں کے نام آتے ہیں، جیسے ٹرائسیراٹاپ یا ٹائرینوسارس ریکس، وغیرہ۔"
آکسفرڈ میوزیم کی ریچل پارل
جب ایک بار سائنسی نام رکھ دیا جائے تو اسے بدلنا مشکل ہوتا ہے۔ اس بات کی کوئی ممانعت نہیں ہے کہ کس کے نام پر نام رکھا جائے، اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی اصول و ضوابط موجود ہیں۔
پہلے زمانے میں اصناف کی شناخت ایک بڑا مسئلہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن آج کے دور میں صرف ظاہری شباہت ہی نہیں بلکہ ڈی این اے ٹیکنالوجی سے کام لے کر اصناف کا تعین کیا جاتا ہے۔
اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ نام ایسے ہوں کہ اس میں نئی نسل بھی دلچسپی لے سکے۔ آکسفرڈ میوزیم کی ریچل پارل کہتی ہیں کہ ’بچے مشکل سائنسی نام پسند کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہر بچے کو ڈائنوساروں کے نام آتے ہیں، جیسے ٹرائسیراٹاپ یا ٹائرینوسارس ریکس، وغیرہ۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’اگر بچے اسی طرح اپنے پسندیدہ کیڑے کا سائنسی نام دریافت کریں تو انھیں اچھا لگتا ہے۔‘

اسی بارے میں


No comments: