Wednesday, September 25, 2013

بلوچستان میںزلزلےسے25 سے زائدافراد ہلاک، سینکڑوں زخمی


پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منگل کی سہ پہر آنے والے شدید زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 325 سے تجاوز کر گئی ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان جان محمد بلیدی نے بتایا کہ آواران میں 160، اس کی تحصیل ماشکیل میں 125 جبکہ کیچ میں 43 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ زلزلے سے تین لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔آواران میں بیس جبکہ کیچ میں ایک ہزار مکانات یا تو تباہ ہوگئے ہیں یا انہیں جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔سب سے زیادہ متاثرہ ضلع آواران میں ماشکیل، جھاہو اور آواران میں زیادہ تباہی ہوئی ہے۔
آواران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے متعدد دیہات میں مٹی سے بنے بیشتر مکانات زمیں بوس ہوگئے ہیں اور ہزاروں افراد نے رات کھلے آسمان تلے گزاری۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ایک ہزار فوجی جوان اور چھ ہیلی کاپٹر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں تاہم فوج کے مطابق دشوار گزار راستوں کی وجہ سے امدادی آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
بلوچستان اور ایران کے جنوبی علاقوں سے فالٹ لائن گزرتی ہے اور گزشتہ پانچ سال کے دوران اس فالٹ لائن پر زیادہ زلزلے ایران میں آئے ہیں، جبکہ حالیہ زلزلہ بلوچستان میں گزشتہ سات سال کے دوران آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔

ستمبر 2013: بلوچستان کے چھ اضلاع میں آنے والے زلزلے سے تین لاکھ افراد متاثر ہوئے جبکہ 325 سے زیادہ جان بحق ہوئے۔
اپریل 2013: صوبہ بلوچستان میں ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں آنے والے زلزلے سے 35 افراد ہلاک اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔
جنوری 211:پاکستان کے جنوب مغربی علاقے میں سات اعشاریہ دو شدت کا زلزلہ آیا تاہم بہت گہرائی میں ہونے کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
اکتوبر 2008: بلوچستان میں چھ اعشاریہ چار شدت کے زلزلے سے 300 افراد مارے گئے۔
اکتوبر 2005: پاکستان کے شمالی علاقوں اور آزادکشمیر میں سات اعشاریہ چھ شدت کے زلزلے سے 73000 افراد ہلاک ہوئے۔
قیامِ پاکستان سے قبل بلوچستان میں 1935 میں ایک شدید زلزلہ آیا تھا جس نے کوئٹہ شہر کو تباہ کر دیا تھا۔ اس زلزلے میں 60 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

No comments: