Sunday, September 15, 2013

سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے فوج کی واپسی کا فیصلہ



دو ہزار نو کے فوجی آپریشن کے بعد سے علاقے میں سیاحوں کو واپس لانے کے لیے کئی میلے اور کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے گئے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت نے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے فوج کی بتدریج واپسی کی اصولی طورپر منظوری دیدی ہے۔
اس کے ساتھ ہی اگلے مہینے سے ضلع شانگلہ اور بونیر سے فوج کے دستوں کے انخلاء کا عمل شروع کیا جائے گا جبکہ اس کے بعد سوات ، اپر دیر، لوئر دیر اور دیگر علاقوں سے بھی فوج کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوگا۔
رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات وزیراعلی خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے سنیچر کو نوشہرہ میں ایک خصوصی بات چیت کے دوران بتائی۔
انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن سے فوج کی مرحلہ وار واپسی کا عمل اگلے مہینے سے شروع ہوجائے گا جبکہ پہلے مرحلے میں بونیر اور شانگلہ کے اضلاع سے فوجی دستے واپس بلائے جائیں گے۔
پرویز خٹک کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن میں عسکریت پسندی کے خلاف طویل جنگ میں فوج کے جوانوں، افسروں، پولیس اور ایف سی سمیت ہر طبقے کے لوگوں نے بے پناہ قربانیاں دیں جسکی وجہ سے آج وہاں امن قائم ہے اور فوجی اپنی بیرکوں میں واپس جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے کہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے اور اس سلسلے میں دوسروں کی بجائے اپنے ملک اور قوم کے مفادات کا خیال رکھا جانا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے تعاون سے صوبے میں آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں تاکہ صوبے میں تمام دینی اور سیاسی جماعتوں کو امن و امان کے قیام اور مذاکرات کے حوالے سے اعتماد میں لیا جاسکے۔
خیال رہے کہ دو ہزار سات میں سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع میں جب تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر مولانا فضل اللہ کے ساتھیوں کی کاروائیاں عروج پر پہنچ گئی تھیں توعلاقے کو فوج کے حوالے کیا گیا۔
اس دوران تین فوجی آپریشن کئے گئے تاہم دو ہزار نو میں ہونے والی فوجی کاروائی سب سے موثر ثابت ہوئی جس سے علاقے سے طالبان کا مکمل خاتمہ کیا گیا اور پورے ڈویژن میں حکومتی عمل داری بحال کی گئی۔
سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں تین سالہ کشیدگی کے دوران کوئی پچیس لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے اور اس دوران سینکڑوں سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور سرکاری ملازمین نے امن کے قیام کے لیے مختلف نوعیت کی قربانیاں دیں۔

No comments: