Sunday, September 22, 2013

امریکہ:جوہری بم پھٹنے سے بال بال بچا


امریکہ میں افشا ہونے والی نئی دستاویزات کے مطابق 1961 میں ملک کی ریاست شمالی کیرولینا میں چار میگا ٹن طاقت کا ایک جوہری بم پھٹنے سے بال بال بچ گیا۔
دستاویز کے مطابق ایک بی۔52 جہاز جس پر دو جوہری بم موجود تھے اور یہ جہاز شمالی کیرولینا میں بے قابو ہو گیا اور اس دونوں بم جہاز سے گر گئے اور ان میں سے ایک بم میں پھٹنے کا عمل شروع ہو چکا تھا یہ بم ہیروشیما اور ناگا ساکی کے اوپر گرنے والے بم سے260 گنا زیادہ طاقت ور تھا۔یہ دستاویز سب سے پہلے برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہوئی تھیں۔
امریکی حکومت نے اس سے پہلے اس واقعے کی تصدیق کی تھی لیکن یہ بات ظاہر نہیں کیا تھا کہ بم پھٹنے کے اتنے قریب تھا یہ دستاویز صحافی ایریک شلوزر نے معلوم تک رسائی کے قانون کے تحت وصول کی تھی۔ ایریک شلوزر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت اگر یہ جوہری دھماکہ ہو جاتا تو اس سے ’تاریخ ہی بدل جاتی۔‘
بی۔52 جہاز 23 جنوری 1961 کو معمول کی پرواز پر تھا کہ شمالی کیرولینا کی اوپر جہاز بے قابو ہو گیا اور اس پر لدے دو ہائیڈروجن بم مارک 39 اور گولڈسبورو فنی خرابی کی وجہ سے زمین پر گر گئے۔شلوزر نے بی بی سی کی کیٹی کیٹ کو بتایا کہ زمین پر گرنے والے ایک’بم کو ایسا لگا کہ اسے دشمن پر پھینکا گیا ہے اور اس بم میں دھماکہ ہونے کا عمل مکمل ہو گیا تھا اور پھٹنے کے قریب ہی تھا کہ اس میں نصب ایک سوئچ خراب ہو گیا جس کی وجہ سے یہ پھٹ نہیں سکا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایک کم وولٹیج والے سوئچ میں خرابی کی وجہ سے ایک بڑی تباہی سے بچا گیا۔یہ واقعہ امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کے عروج کے دنوں میں پیش آیا تھا۔ اس واقعے کے ایک سال بعد کیوبن میزائل معاملے کی وجہ سے جوہری جنگ امریکہ کے دروازے پر پہنچنے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔


No comments: