Sunday, September 22, 2013

دس بنیادی بوئیں


امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسان جو ہزاروں قسم کی بو سونگھ سکتا ہے انہیں دس بنیادی درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
بیٹس کالج کے پروفیسر جیسن کاسترو اور یونیورسٹی آف پٹس برگ کے پروفیسر چکارا نے ان خوشبوؤں اور بدبوؤں کے بنیادی اجزا کی شناخت کے لیے کمپیوٹر پروگرام کی مدد لی۔
یک سائنسی جریدے سے بات کرتے ہوئے ان دونوں سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے 144 بوؤں کا تجزیہ کیا جس سے پتا چلا کہ انھیں دس بنیادی درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ان کی اس دریافت کو متنازع قرار دیا گیا ہے۔
پروفیسر کاسترو کا کہنا ہے کہ ’آپ کے پاس دس بنیادی اقسام ہیں اور اگر آپ ان دس اقسام کے بارے میں جانتے ہیں تو آپ ان کی مدد سے کسی بھی قسم کی خوشبو بنانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم کسی بُو کی کیمیائی ساخت کی بنیاد پر شناخت کا مسئلہ تو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے لیکن ہمیں امید ہے کہ ایسا ممکن ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اب ضروری ہے ان کے اس خیال کو پرفیومز اور روزمرہ کی زیادہ پیچیدہ خوشبوؤں یا بدبوؤں پر لاگو کر کے دیکھا جائے۔
پروفیسر کاسترو نے کہا کہ درحقیقت کوئی بھی قدرتی بو دس مختلف اقسام کا مجموعہ ہو سکتی ہے۔
بوؤوں کی سائنس کے برطانوی ماہر پروفیسر ٹم جیکب کا کہنا ہے کہ ’1950 کی دہائی میں جان آمور نامی سائنسدان نے یہ خیال پیش کیا تھا کہ بو کو مالیکیولوں کی ساخت اور حجم کی بنیاد پر سات درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’بعد میں انہوں نے اپنا یہ خیال واپس لے لیا تھا تاہم مجھے یقین ہے کہ کاسترو کا مقالہ بہت سے کارآمد خیالات کو جنم دے گا۔

دس بنیادی بوئیں

  • مہک دار
  • چوبی
  • پھل دار
  • کیمیائی
  • پودینے والی
  • میٹھی
  • پاپ کارن
  • لیموں
  • تیز کڑوی
  • گلی سڑی



No comments: