Saturday, September 21, 2013

چھ فلاحی منصوبوں کا اعلان

وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے نوجوان کے لیے بیس بلین روپے کے چھ فلاحی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
سنیچر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ان فلاحی منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں میں خود روزگاری کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت اس امر کا پختہ عزم رکھتی ہے کہ پاکستان جلد سے جلد اپنی مشکلات پر قابو پائے، پاکستان کی معیشت اتنی مضبوط ہو جائے کہ ہمیں قرضوں اوربیرونی امداد کی ضرورت نہ رہے، اربوں روپے کی وہ رقم بچائی جا سکے جو خسارے میں چلنے والے حکومتی اداروں کی نذر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بچائی گئی رقم کو عوام کی فلاح وبہبود، نوجوانوں کے لیے تعلیم و تربیت اور روز گار کے نئے مواقع کے لیے وقف کر دیا جائے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان پروگرامو ں کا مقصد نوجوانوں کے لیے خود انحصاری اور خود روزگاری کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا حکومت نے فوری طور پرچھ پروگرام شروع کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔
پہلی سکیم بلا سود قرضوں کی ہے جو کمزور مالی طبقات کے افراد کے لیے مخصوص ہو گی۔ اس سکیم کے لیے موجودہ مالی سال میں ساڑھے تین ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس سے اڑھائی لاکھ افراد مستفید ہو سکیں گے۔ان قرضوں پر کوئی سود نہیں لیا جائے گا۔
اس سکیم کا مقصد بے روز گار نوجوانوں کو ایسے ہنر اور فنون کی تربیت دینا ہے جن کے ذریعے وہ باعزت طریقے سے روزی کما سکیں۔ پیچس سال تک کی عمر کے ایسے تمام نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے جنہوں نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔
ان نوجوانوں کو چھ ماہ کے لیے فیس اور وظیفہ کی مد میں پانچ ہزار روپے ماہانہ دیا جائے گا۔ تربیتی اداروں کی فیس حکومت خود ادا کرے گی اور اس کے لیے اسی کروڑ روپے مختص کیے گیے ہیں۔
اس سکیم کے تحت پسماندہ علاقوں کے طلبہ و طالبات کے لیے حکومت کی طرف سے فیس کی ادائیگی ہے۔ حکومت نے طے کیا ہے کہ کوئی باصلاحیت نوجوان صرف اس لیے اعلیٰ تعلیم سے محروم نہیں رہنا چاہیے کہ اس کے والدین فیس کی ادائیگی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ایم اے، ایم ایس سی یا اس سے بالاتر سطح کی تعلیم حاصل کرنے والے ان جوانوں کی فیس حکومت خود ادا کرے گی۔ اس سکیم کے لیے ایک ارب بیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جس سے تیس ہزار طلبہ و طالبات کی اوسطاً چالیس ہزار روپے سالانہ فیس ادا کی جائے گی۔
دوسری سکیم چھوٹے کاروباری قرضوں کی ہے۔ یہ سکیم بے روزگار بالخصوص پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے مخصوص ہوگی جو اپنا کاروبار شروع کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ان میں پچاس فیصد قرضے خواتین کے لیے مختص ہوں گے۔
پانچ لاکھ سے بیس لاکھ روپے کے قرضے ہنر مند افراد کو ملیں گے جو اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس قرضے پر مارک اپ کی رعایتی شرح صرف آٹھ فیصد ہوگی۔ باقی حکومت خود ادا کرے گی۔ ابتدائی طور پر یہ قرضے نیشنل بینک اور فرسٹ ویمن بینک کے ذریعے دیے جائیں گ۔ اس سکیم کے لیے پانچ ارب روپے رکھے مختص کیے گئے ہیں
تیسری سکیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تربیتی سکیم ہے۔ اس کے تحت منظور شدہ تعلیمی اداروں سے سولہ سالہ تعلیمی ڈگری کے حامل نوجوانوں کو عملی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ انھیں اندرون یا بیرون ملک روز گار کی تلاش میں آسانی ہو۔
ملازمت کے دوران تربیت کے سلسلے میں نوجوانوں کو ایک سال کے لیے دس ہزار روپے ماہانہ وظیفہ ملے گا۔ اس سکیم کے لیے چار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اوراس سے پچاس ہزار گریجویٹس استفادہ کر سکیں گے۔
موجودہ دور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کادورکہا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر کے لیے اس سکیم کے اجراء کافیصلہ کیا ہے جس سے اس سال ایک لاکھ طلبہ وطالبات کو لیپ ٹاپس فراہم کیے جائیں گے۔ اس سکیم کے لیے چار ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاقی کابینہ ان سکیموں کے بنیادی خدوخال کی منظوری دے چکی ہے۔ ان سکیموں پر عمل درآمد کے تمام انتظامات بھی مکمل ہیں اور حکومت ان سکیموں کو مزید موثر، شفاف اور سوفیصد میرٹ کے مطابق بنانے کے لیے آپ کی تجاویز سے رہنمائی لے گی۔




No comments: