Friday, October 24, 2014

بھاشا ڈیم بھارت کے نشانے پر


وہ لوگ جو بھارت سے یہ آس لگائے ہوئے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے پڑوسیوں والے تعلقات قائم کرے گا ان کے لئے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ بھارت امریکی انتظامیہ کو یہ خط لکھ رہا ہے کہ وہ پاکستان کے بھاشا ڈیم کے لئے فنڈز فراہم کرے اور نہ ہی کوئی امریکی کمپنی اس منصوبے میں حصہ لے۔۔۔۔۔۔۔

بھاشا ڈیم بھارت کے نشانے پر


وہ لوگ جو بھارت سے یہ آس لگائے ہوئے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے پڑوسیوں والے تعلقات قائم کرے گا ان کے لئے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ بھارت امریکی انتظامیہ کو یہ خط لکھ رہا ہے کہ وہ پاکستان کے بھاشا ڈیم کے لئے فنڈز فراہم کرے اور نہ ہی کوئی امریکی کمپنی اس منصوبے میں حصہ لے پاکستان جہاں بھاشا ڈیم تعمیر کرنا چاہتا ہے وہ متنازعہ علاقہ ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں واشنگٹن میں ایک کانفرنس کی میزبانی کی ہے جس میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈز کی فراہمی اور دوسرے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ مگر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے اپنے سفارت کاروں کو بھی یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ امریکہ کو بھاشا ڈیم کی تعمیر میں امداد دینے سے باز رکھنے کی کوششیں کریں۔ ایک طرف تو بھارت پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر ڈیم پر ڈیم بنا رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان جسے توانائی کے سنگین بحران کا سامنا ہے اسے بجلی کے بحران میں مبتلا رکھنے کیلئے وہ پانچ ہزار میگاواٹ کی گنجائش والے بھاشا ڈیم کی مخالفت کر رہا ہے۔
ایک چینی فرم نے مظفر آباد سے نیلم تک چند سال قبل سڑک کو اپ گریڈ کرنے کا کام شروع کیا تھا۔ یہ سڑک وادی نیلم کو مظفر آباد سے منسلک کرتی ہے۔ جب چینی فرم نے سڑک کی اپ گریڈیشن شروع کی تو بھارت نے چین سے احتجاج کیا کہ چین ایک متنازعہ علاقے میں کام کر رہا ہے یہ کام فوراً بند کر دیا جائے لیکن چینی حکومت نے بھارت کو اس معاملے پر سخت وارننگ دی کہ وہ سڑک کی اپ گریڈیشن کے معاملے میں مداخلت سے باز رہے۔ یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ چین مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو بھارتی پاسپورٹ پر ویزے جاری نہیں کرتا بلکہ وہ الگ دستاویز پر انہیں ویزے دیتا ہے۔ بھارت اس معاملے پر کئی مرتبہ چین سے احتجاج بھی کر چکا ہے لیکن چین نے بھارت کے اس احتجاج کو ہمیشہ مسترد کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے یہ بھارت کا حصہ نہیں ہے۔
پاکستان کے بارے میں بھارت خبث باطن کے اظہار کا کوئی موقع نہیں جانے دیتا۔ ان دنوں ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر اس نے جو بلااشتعال گولہ باری شروع کر رکھی ہے۔ وہ بھی اس کی پاکستان کے بارے میں پالیسی کا اظہار ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کو یہ خوش گمانی تھی کہ اگر بھارت کے بارے میں خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جائے تو وہ پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گا۔ وزیراعظم نواز شریف بھارت کے نئے وزیراعظم نریندرا مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے بھارت گئے تھے یہ بھی خیرسگالی کا اظہار تھا لیکن اس کے جواب میں بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے خلاف ممبئی حملوں کے حوالے سے ایک چارج شیٹ پڑھ کر سنا ڈالی اور مطالبہ کیا کہ پاکستان ممبئی کے ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ 
ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر شدید فائرنگ کی ہدایت بھارت کے وزیراعظم ہاؤس سے دی گئی۔ بھارتی وزیراعظم سے منسوب یہ بیان بھی سامنے آ چکا ہے کہ پاکستان کو گہرا زخم لگایا جائے اب بھارت نے امریکہ پر زور دینا شروع کیا ہے کہ وہ بھاشا ڈیم کی تعمیر میں پاکستان کی مدد نہ کرے۔ نریندرا مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان میں بعض پالیسی ساز اس امید کا اظہار کر رہے تھے کہ بی جے پی کی پچھلی حکومت کی طرح یہ حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرے گی اور پاکستان کے مثبت جذبات کا مثبت جواب دے گی لیکن نریندرا مودی حکومت نے پاکستان کے ساتھ جو معاندانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کو مسلسل دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے۔ بڑی طاقتیں تو مودی حکومت کو یہ مشورہ دے رہی ہیں کہ وہ پاکستان سمیت اپنے پڑوسی ملکوں سے تعلقات کو بہتر بنائے لیکن مودی حکومت تو دوسرے راستے پر چل پڑی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں کیا اٹھایا ہے کہ بھارت تو اب دھمکیوں پر اتر آیا ہے۔ بھاشا ڈیم کی مخالفت کر کے بھارت پاکستان کو معاشی اعتبار سے زک پہنچانا چاہتا ہے۔ جو حلقے بھارت کے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہیں انہیں اب اپنی سوچ پر نظرثانی کر لینی چاہئے۔

No comments: