Saturday, October 25, 2014

Urdu Poetry




دل میں ایک لہر سی اٹھی ہے ابھی
ناصر رضا کاظمی
دل میں ایک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
شور برپاہےخانہ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی
اوریہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی
تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
شہرمیں رات جاگتی ہے  ابھی
یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آرہی ہے ابھی
بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کسی چیز کی کمی ہے ابھی
سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

No comments: