Monday, November 3, 2014

Ameer Khusro ---- امیر خسرو

امیر خسرو  ۔۔   1325۔ 1253
امیرخسروپٹیالی ضلع ایٹہ( آگرہ) میں پیدا ہوئے وہ سیف الدین محمد لاچین کے بیٹے تھے۔خسرو نے سات بادشاہوں کی مصاحبت اختیار کی اور ہر ایک اس کا قدر دان تھا۔ خسرو حصول علم کے ساتھ ساتھ بچپن ہی سے شعر کہنے لگے تھے۔ انھوں نے بیس سال کی عمر تک درسی علوم کی تکمیل کر لی۔ علوم متداولہ کے حصول کے بعد پہلے کتلو خاں کے دربار سے پھر بغرا خان کے دربار سے متوسل ہوئے۔ سلطان محمد بن سلطان بلبن نے انہیں اپنی مصاحبت میں رکھا۔ وہ غیاث الدین بلبن کے بھدی جے ملک چھجو کے دربار میں رہے۔ اس کی مدح میں کئی قصائد لکھے۔ اس کے بعد بلبن کے لڑکے بغرا خاں

کے دربار میں پہنچے۔ وہ ان کا بہت قدردان تھا۔ بلبن نے بغرا خاں کو بنگال متعین کیا تو اس کا ساتھ نہ دے سکے اور دہلی آگئے اور بلبن کے بڑے بیٹے محمد آقان حاکم ملتان کے ساتھ ملتان آگئے۔ جب تاتاریوں نے تخت و تاراج شروع کی تو ملک محمد مارا گیا اور تاتاریوں نے خسرو اور ان کے ساتھی حسن سجزی دہلوی کو گرفتار کر لیا۔ خسرو کو اس قید سے جلد ہی رہائی مل گئی اور وہ ملتان لوٹ آئے۔ اس سانحے پر امیر خسرو نے نہایت پر درد مرثیے لکھے۔ بلبن نے اسی صدمہ سے انتقال کیا اور بغراخاں کا بیٹا معزالدین کیقباد تخت نشین ہوا جو عیش و عشرت میں پڑ گیا۔ بغرا خاں بیٹے کی تنبیہ کے لیے بنگال سے دہلی آرہا تھا کہ کیقباد بھی مقابلے کے لیے نکلا لیکن صلح ہو گئی۔ امیر خسرو کی مثنوی قران السعدین میں اس واقعے کا ذکر ہے۔ جلال الدین خلجی نے خسرو کو امارت کا عہدہ دیا اسی لیے وہ امیر خسرو کہلاتے ہیں۔ اس نے خسرو کی بہت قدر افزائی کی۔ امیر خسرو نے اس کے زمانے کی تمام فتوحات کو نظم کیا۔ علاء الدین خلجی کے دربار میں علما وفضلا و شعرا کا مجمع تھا۔ خسرو 1301 میں حضرت نظام الدین اولیا کے مرید ہوئے اور تصوف میں کمال کیا۔ موسیقی میں یکتائے روزگار تھے اور نائیک کا خطاب حاصل کیا تھا۔ ان کے پانچ دیوان ہیں پہلی مثنوی قران السعدین ہے۔ خسرو نے نظامی کے خمسے کے جواب میں مطلع الانوار، شیریں خسرو، آئینہ اسکندی، لیلی مجنوں، اور ہشت بہشت لکھیں۔ واقعاتی مثنیوں میں مفتاح الفتوح، نہ سپہر، دول رانی خضر خاں، تغلق نامہ اور خزائن الفتوح ہیں۔ اعجاز خسروی پانچ جلدوں میں ہے اس میں نثر نویسی کے اصول و قواعد بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں بے شمار صنعتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت نظام الدین اولیا کے ملفوظات افضل الفوائد بھی خسرو سے منسوب ہیں۔ کل اشعار کی تعداد چار لاکھ سے زائد ہے۔ سنسکرت بھی جانتے تھے اور ترکی، فارسی اور عربی میں مہارت تامہ حاصل تھی۔ اردو کی شاعری کا آغاز انھیں سے ہوتا ہے۔ ہندوستان میں اس پایہ کا ادیب پیدا نہیں ہوا وہ اپنے مرشد کے اتنے چہیتے تھے کہجب ان کا وصال ہوا تو بنگال میں تھے عالم اضطراب میں بنگال سے دہلی آئے اور ہجر مرشد میں اتنے غمزدہ ہوئے کہ صرف چھ ماہ بعد انتقال کیا اور مرشد کی پائنتی دفن ہوئے۔

No comments: