Sunday, November 2, 2014

ہیپاٹائٹس کیلئے ایک نئی دوا ایجاد


طبی ماہرین اور سائنس دانوں نے ہیپاٹائٹس کے موذی مرض کیلئے ایک نئی دوا سوویل ڈی (Sovaldi) ایجاد کر لی ہے جس کے تحت اب مریضوں کا علاج انٹرفیرون انجکشن کی بجائے سوویل ڈی کی گولی سے کیا جائے گا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے ترقی پذیر ممالک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا علاج انجکشن کی بجائے گولی سے کرنے کی سفارشات بھجوا دیں۔ راولپنڈی کے ایک نجی ہسپتال میں سوویل ڈی کی گولی استعمال کی جا رہی ہے تاہم سرکاری ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کے علاج کیلئے تاحال انجکشن ہی استعمال ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹرز اور اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر دس میں سے ایک شخص ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہے۔ ہیپاٹائٹس کی اقسام اے، بی، سی، ڈی اور ای میں سے اے اور ای پانی سے پھیلتی ہیں جبکہ بی، سی، ڈی خون، سرجری، دوسرا بلیڈ استعمال کرنے، بازو پر نام لکھوانے، سرنج استعمال کرنے، ناک، کان چھدوانے سے پھیل رہا ہے۔ صوبائی حکومتیں، محکمہ صحت اور
ضلعی انتظامیہ ہیپاٹائٹس کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنے میں ناکام ہیں۔ سرکاری سطح پر ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو علاج کرانے کیلئے مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں انٹرفیرون کے انجکشن دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے یہ مرض بڑھتا جاتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ ایک سے 5 لاکھ ہیپاٹائٹس کے مریض دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ 6 ماہ کے گولی کے کورس سے 95 فیصد ہیپاٹائٹس کا علاج ممکن ہو گا۔ محکمہ صحت پنجاب کے ذرائع کا کہنا ہے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں فی الحال ٹیکے کے ذریعے علاج ہو رہا ہے عنقریب یہ گولی متعارف کرائی جا سکتی ہے۔

No comments: