Saturday, December 20, 2014

16دسمبرکا انتخاب



(مفتی منیب الرحمٰن (زاویہ نظر 

سولہ دسمبر 1971ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ اور المیہ ہے کہ اس دن پاکستان دولخت ہوا، مشرقی پاکستان ہم سے کٹ کر بنگلہ دیش بنا اور پلٹن میدان ڈھاکا کا المیہ شاید کبھی بھلایا نہ جاسکے۔ یہ المیہ ہماری بے تدبیری اور ناکامیوں کے علاوہ دشمن کی سازشوں کا نتیجہ تھا۔ اس دن بانیانِ پاکستان کی روح کو یقینا شدید اذیت پہنچی ہوگی،جب ان کے جانشین اُن کی چھوڑی ہوئی امانت کی حفاظت نہ کرسکے۔آج بھی بنگلہ دیش میں پاکستان کی سا لمیت کے لئے لڑنے والوں اورپاکستان کی مسلح اَفواج کا ساتھ دینے والوں کو سزائے موت دی جارہی ہے اور ہماری پارلیمنٹ اِس حوالے سے ایک قرار دَادِ مذمت بھی منظور کرنے کی جسارت نہ کرسکی۔ 
سانحۂ سقوطِ مشرقی پاکستان کے ٹھیک 43سال بعد دہشت گردوں اور دشمنانِ پاکستان نے ورسک روڈ پشاور میں سکول پر سفاکانہ اور ظالمانہ حملے کے لئے اسی تاریخ کا انتخاب کیا۔ دہشت گردوں کے اِس ظالمانہ حملے کے نتیجے میں 132نوعمر طلبہ اور اسکول کے عملے کے نو افراد شہید ہوگئے، ان کے علاوہ بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے اور بہت سے زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔ اس حملے کی ذمے داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔ لیکن اس تاریخ کا انتخاب اِس حقیقت کا عکاس ہے کہ اس کی منصوبہ بندی، وسائل کی فراہمی میں کہیں نہ کہیں متعصبانہ ہندو ذہنیت کارفرما ہے تاکہ یہ پیغام دیا جائے کہ ہندوستان کے آتشِ انتقام ابھی تک ٹھنڈی نہیں ہوئی بلکہ یہ بدستور شعلہ زن ہے اور اس کے اثرات بلوچستان میں بھی محسوس کئے جارہے ہیں۔
وقتاً فوقتاً ہمارے ملک میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں اور ان واقعات میں ہماری سلامتی کے اداروں، دفاعی اداروں اور حساس اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیاہے اور یہ اس اَمر کا ثبوت ہے کہ ہمارے اداروں کی کمین گاہوں میں دشمن کے ہمدرد کہیں نہ کہیں چھپے بیٹھے ہیں، جو اندرونی معلومات دشمنوں تک پہنچاتے ہیں اور اس طرح کے واقعات کی منصوبہ بندی میں ان کے ممد ومعاون بنتے ہیں۔ اس لئے ایک بے رحم اور بڑے عملِ جراحی (Surgery)کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے اداروں میں جو دشمن کے ایجنٹ گھسے بیٹھے ہیں، اس طرح کے Tumorsکوجڑ سے اکھیڑا جائے، ورنہ یہ آگے چل کر کینسر اور ناسور بنتا چلا جائے گا اور ہمارے جسدِ ملّی کے لئے تباہ کن ہوگا۔ 
یہ تو کہا جاتا ہے کہ خود کش حملے کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن مؤثر ، مربو ط اورسائنٹیفک حکمتِ عملی سے ان کا سدِّباب کیا جاسکتاہے ، ان کا راستہ روکا جاسکتاہے یا کم ازکم ایسی وارداتوں کے امکانات کو کم کیاجاسکتاہے۔ ہماری مسلح افواج پہلے ہی دفاعِ پاکستان کے حوالے سے نیا نظریہ (Doctrine) جاری کرچکی ہے کہ ہماری سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ داخلی ہے اور ظاہر ہے کہ دشمن کی سب سے کامیاب حکمتِ عملی یہی ہوتی ہے کہ فریقِ مخالف کو اس کے گھر میں اتنا مصروف رکھا جائے کہ اُسے دشمن کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی فرصت ہی نہ ملے ۔اس شاطرانہ ابلیسی کھیل میں دشمن کو ایک طرح سے بالادستی (Advantage) حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ہدف کا تعین کرتا ہے ، مہرے بدلتاہے اور چالیں چلتاہے۔ اِس حکمتِ عملی کو ناکام بنانے (To Counter)کا سب سے مؤثر طریقہ تو یہ ہے کہ دشمن کو اس کے گھر میں جواب دیا جائے ، ورنہ برسبیلِ تنزل کم ازکم یہ ہے کہ اپنے گھر کو مضبوط بنایا جائے اور دشمن کو سازشوں کے لئے کمین گاہیں فراہم نہ کی جائیں۔ 
امریکہ اور اہلِ مغرب نے نہایت کامیابی کے ساتھ اپنی جنگ کو ہماری طرف دھکیل دیا، وہ اپنی جنگ ہماری سرزمین پر لڑ رہا ہے اور اس کا ایندھن ہمارے لوگ بن رہے ہیں اور بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار بھی پاکستان ہے اور دہشت گردی کا سب سے بڑا الزام بھی پاکستان کے سر ہے۔ پوری دنیا نے دہشت گردوں کے خلاف اپنی نام نہاد جنگ میں وہ نقصان نہیں اٹھایا ، جو پاکستان کے سر پر مسلط کردیا گیا ہے اور جس سے بچاؤ کی کوئی مؤثر تدبیر بھی نظر نہیں آرہی۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ''اے ایمان والو!غیروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ، وہ تمہاری بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، انہیں (تو) وہی چیز پسند ہے، جس سے تمہیں تکلیف پہنچے، ان کی باتوں سے تو دشمنی عیاں ہوچکی ہے اور جو(عداوت) وہ اپنے سینوں میں چھپائے بیٹھے ہیں ، وہ اِس سے بھی بڑی ہے،ہم نے تمہارے لئے نشانیوں کو وضاحت سے بیان کردیا ہے، اگر تم عقل سے کام لیتے ہو،سنو! تم ان سے محبت کرتے ہو، حالانکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے اور تم تمام کتابوں پرایمان رکھتے ہواور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں :ہم ایمان لائے اور جب وہ (آپس میں) تنہائی میں ہوتے ہیں، تو تمہارے خلاف غصے سے انگلیاں کاٹتے ہیں، آپ کہئے! تم اپنے غصے میں جَل مرو ، بے شک اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچتی ہے ، تو اس سے انہیں فرحت ملتی ہے اور اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ، توان کا مکروفریب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، بے شک اللہ (کی قدرت) ان کی تمام کارستانیوں پرمحیط ہے،(آلِ عمران:118تا120)‘‘۔
ان آیات میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اپنے دشمنوں پر بھروسا نہ کریں ، انہیں جب بھی موقع ملے گا ،وہ مسلمانوںکو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے اور انہیں کبھی بھی اپنا رازدار نہیں بنانا چاہئے ، خواہ وہ کتنی ہی ملمع کاری کرکے اور دوستی کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آئیں ۔ اگر مسلمان کا آئینۂ دل صاف ہوتواللہ تعالیٰ اُس پر حقائق کو منکشف فرمادیتاہے اور وہ کسی سے دھوکا نہیں کھاتا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:''مومن کی فراست سے ڈرو ، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتاہے،پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:بے شک اس میں اہلِ فراست کے لئے نشانیاں ہیں،(الحجر:75)،(سنن ترمذی:3127)‘‘۔
ہمارے سیاسی رہنما پشاور میں وزیراعظم کی صدارت میں طلب کئے گئے ایک اجلاس میں اظہارِ یکجہتی کے لئے جمع ہوئے ۔ عام طور پر اس طرح کے اجلاسوں میں یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ چند تقاریر ہوتی ہیں اور پھر ایک قرارداد میڈیا کے لئے جاری کردی جاتی ہے ، یعنی ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے، جسے ہم اَشک شوئی سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ یہ حضرات قومی سوگ کے یہ تین دن یکسو ہوکر پوری صورتِ حال کے تمام مثبت اور منفی پہلووں پر تمام تر گہرائی اور گیرائی کے ساتھ غوروفکر کرتے اور پھر مکمل اتفاقِ رائے سے ایک حکمتِ عملی ترتیب دیتے ، جو قومی وحدت کی آئینہ دار ہو اور برسرِ اقتدار کوئی بھی فرد یا جماعت ہو‘ وہ اسے اپنانے اور جاری رکھنے کی پابند ہو۔ ہم بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان اٹھاچکے ہیں اور ہمارے بہت سے وسائل داخلی سلامتی پر خرچ ہورہے ہیں۔ اس لئے اس صورتِ حال کو نتیجہ خیز بنانا ازحد ضروری ہے۔
ہم ترقی یافتہ ملکوں میں دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا شخص برسرِ اقتدار ہو ،اہم قومی امور کے بارے میں ان کا ایجنڈا طے شدہ ہوتاہے اوراقتدار میںتبدیلی سے قومی پالیسی میں کوئی بڑی معنوی تبدیلی رونما نہیں ہوتی، بلکہ قومی اجماعی پالیسی کا تسلسل جاری رہتاہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی حکمتِ عملی ان کے قومی مقاصد واہداف کے اعتبار سے کامیاب اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ 9/11کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے جو حکمتِ عملی اختیار کی ، وہ آج صدر اوباما کے دوسرے دور میں بھی جاری وساری ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں قومی مقاصد واہداف کی ترجیحات اور سَمتِ قبلہ واضح نہیں ہوتیں ، اس لئے یہ تأثر پیدا ہوتاہے کہ حکمران بھی کنفیوزڈ ہیں اور یہی فکری انتشار اور یکسوئی کا فقدان عوام کو بھی منتشر رکھتا ہے۔ سرِدست فوج کی پالیسی متعین اور طے شدہ نظر آتی ہے اور بادی النظر میںسانحۂ پشاور کے بعد پہلی بار وزیر اعظم نے بھی کھل کر فوج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، لیکن اس معرکے کو سر کرنے کے لئے قومی اتفاقِ رائے کی اشد ضرورت ہے، اس کے لئے وزیراعظم کو اپنی لاتعلقی کی روش کو ترک کرکے قوم اور پوری قیادت کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ 

No comments: