Saturday, December 20, 2014

چین ، ریسٹورنٹ میں روبوٹ ویٹرز



بیجنگ: چلتے پھرتے اور انسانوں کی طرح کام کرتے روبوٹ کبھی صرف سائنس فکشن انگلش فلموں کا ہی حصہ ہوا کرتے تھے تاہم جدید ٹیکنالوجی نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے اور اب زندگی کے اکثر شعبوں میں روبوٹ کام کرتے نظر آئیں گے اسی لیے چین کے ایک ہوٹل نے روبوٹ بطور ویٹر رکھ لیے ہیں تاکہ گاہکوں کو تیز رفتار اور بروقت سروس فراہم کی جاسکے۔
چین کے مشرقی صوبے زی جیانگ کے شہر ننگبو میں موجود ایک ریسٹورنٹ کے مالک نے گاہکوں کے لیے 5 روبوٹ ویٹر متعارف کرادیئے جو دیکھتے ہی دیکھتے گاہکوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، ایک میٹر لمبے روبوٹ ویٹرز گاہکوں کو اپنی خوبصورت
آواز میں خوش آمدید کہتے ہوئے مینیو کارڈ سامنے رکھ دیتے ہیں اور پھر گاہک کی خواہش کے مطابق کھانا اور مشروب خدمت میں حاضر کرتے ہیں۔ ریسٹورنٹ کے مینیجر کا کہنا ہے کہ ایک روبوٹ کی قیمت 9700 امریکی ڈالر ہےجبکہ اس کی ٹیکنالوجی لائف 5 سال تک ہے.
ہوٹل مینیجر کا کہنا تھا کہ روبوٹ ویٹرز کے متعارف کرانے سے لوگ ہوٹل کی جانب کھچے چلے آتے ہیں کچھ تو صرف روبوٹ کے ہاتھ سے کھانا کھانے کے شوق میں یہاں آجاتے ہیں جبکہ 3 روبوٹ انٹری گیٹ پر رقص کرتے اور کرسمس کا گانا گاتے ہوئے گاہکوں کو استقبال کرتے ہیں اور 2 روبوٹس کھانا فراہم کرتے ہیں۔
ہوٹل کے مالک کا کہنا ہے کہ انہیں روبوٹ ویٹر لانے کا آئیڈیا مزدوری کے خرچے کو کم کرنے کی وجہ سے آیا کیونکہ انسانی ویٹرز کی تنخواہوں کا خرچہ روبوٹ ویٹرزکے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور روبوٹ ویٹرز زیادہ وقت تک کام کرسکتے ہیں۔

No comments: