Saturday, July 9, 2016

دنیائے انسانیت کا روشن چراغ بجھ گیا، عبدالستار ایدھی ہم میں نہ رہے



ممتاز سماجی رہنما  فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ان کی عمر 88 برس تھی اور وہ سنہ 2013 سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، گزشتہ کئی روز سے سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ (ایس آئی یو ٹی) میں زیرعلاج تھے ۔ عبدالستار ایدھی کے گردے ناکارہ ہوچکے تھے جنہیں ڈائلسز کے دوران سانس کی تکلیف کے باعث وینٹی لیٹر پرمنتقل کیا گیا جہاں 6 گھنٹے کے بعد جمعے کی شب گیارہ بجے ان کا انتقال ہوگیا۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے عبدالستار ایدھی کے انتقال پر ملک بھر میں ایک دن جبکہ حکومتِ سندھ نے تین دن کا سوگ منانے کا اعلان کیا ہے اور اس موقع پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔حکومتِ پاکستان کے مطابق ایدھی کا جنازہ سرکاری سطح پر منعقد کیا جائے گا اور انھیں بعد از مرگ نشانِ امتیاز دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
ایدھی نے 25 سال قبل ایدھی ویلج میں اپنی قبر تیار کی تھی وہیں ان کی تدفین ہوگی۔ ایدھی کی وصیت کے مطابق ان کی آنکھیں عطیہ کر دی گئی ہیں۔
عبدالستار ایدھی نے 1951 میں کراچی میں ایک ڈسپنسری سے سماجی خدمت کا آغاز کیا تھا اور اب چاروں صوبوں میں ان کی ایمبولینس سروس، لاوارث بچوں اور بزرگ افراد کے لیے مراکز اور منشیات کے عادی لوگوں کی بحالی کے مراکز قائم ہیں۔



No comments: